Usri Yusra Urdu Novel By Husna Hussain Episode 8

Usri Yusra Urdu Novel By Husna Hussain Episode 8. Natural Health Tips in Urdu and online Digest. Get Daily Health Tips Urdu Recipes Free Urdu Digests and any further Tips. realize straightforward Pakistani Indian and Chinese Recipes in Urdu

Usri Yusra Urdu Novel

Usri Yusra Urdu Novel By Husna Hussain Episode 8

Urdu Digests, Magazines, Jasoosi Novels, Social Books, Urdu Novels, academic Books, Khaufnak Novels, All reasonably Urdu Books

Latest Episode notable Urdu:

Urdu books area unit on the market in PDF. I trust such as you This Month Digest. This book is definitely downloaded in HD quality. we’ve got scanned all the pages and regenerate them into one PDF file to share with our guests.

Select the acceptable Size in line with your web speed or your selection.  All qualities area units clear. This book is additionally on the market for transfer by Any File. Floods merely contain books in pdf.

 

Digest Novel App Download

Note:

  • Share this post on social media.
  • provide this publication suggests that, as an example,
  • Facebook, Twitter Always be substantiating.
  • This publication Share everything finished, at any stage This
  • Link on the market By any Time.
  • Type Comment Here New Request any Tips

Usri Yusra Episode 9 Read Online 

نئی بکس اردوناولز کے لئے

New Novels

DOWNLOAD

 

ایک وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں صرف باہر کی دنیا سے لڑنا پڑتا ہے۔یہ ایک جنگ ہے اور قدرے آسان ہے۔۔۔لیکن باہر کی دنیا کے ساتھ ساتھ جو جنگ اپنے اندر،اپنے آپ سے لڑنی پڑتی ہے۔۔یقین کریں وہ بہت مشکل ہوتی ہے۔۔۔۔”وقت صفحوں کی طرح پلٹ رہا تھا۔وہ انہیں پیچھے۔۔۔اور بہت پیچھے لیے جا رہا تھا۔ جنت کی آنسووں سے بھری آنکھیں انہیں چاروں طرف نظر آ رہی تھیں۔ “آپ بار بار مرتے ہیں۔۔۔اور بار بار زندہ کر دیئے جاتے ہیں۔۔۔۔اسی ایک ہی اذیت سے بار بار گزرنے کے لیے۔۔۔جہنم بھی اسی لیے جہنم ہے کہ سب بار بار ہوتا رہے گا۔۔۔ ہے نا؟؟؟! “
انہیں یوں لگا جیسے وہ جائے نماز پر بیٹھی آدھی ادھوری باتیں ایک بار پھر کرنے لگی ہے مگر وہ باتیں اب آدھی ادھوری نہیں رہی تھیں۔وہ ان کے لیے مکمل ہوتی جا رہی تھیں۔
“وہ لوگ بھی تو ہوتے ہیں جنہیں بغیر کسی انتظار،دعاء اور تڑپ کے سب مل جاتا ہے۔۔۔۔ ان میں ہم کیوں نہیں ہو سکتے؟؟!ہمیں کیوں رونا پڑتا ہے؟؟ ہمیں کیوں ایک ایک خواہش کے لیے تڑپنا پڑتا ہے؟؟!”
گھڑی کی سوئیاں متحرک تھیں۔ پنڈولم کی آواز اب مبھم نہ رہی تھی۔
وجدان ہاوس میں پہلے دن سے اب تک جنت کے ساتھ ہونے والی ہر گفتگو انہیں یاد آ رہی تھی۔۔۔ امید اور مایوسی سے الجھتی اسکی آنکھیں۔۔مضبوطی سے کمزور پڑتی اسکی آواز۔۔ڈرا ڈرا سا لہجہ، سہما سہما سا انداز۔۔۔اور آنسووں کی آمیزش لیے لبوں پر اچانک سے ابھرتی زندگی سے بھرپور مسکان۔۔۔۔
“ماں کی بدعاء میں بھی بہت اثر ہوتا ہے۔۔۔۔ ہے نا!!! بلکہ سب سے زیادہ اثر ہی اسی “بدعاء” میں ہوتا ہے؟؟؟!” ان کی تسبیح سمیٹتی انگلیاں کپکپانے لگیں۔ “اگر کوئی ماں اپنی اولاد سے نفرت کرتے کرتے مر جائے۔۔۔۔ تو کیا ماں کی نفرت بھی مر جاتی ہے؟؟!”
“کبھی کبھی آپ کو ایسے جرم کی سزاء ملتی ہے جو آپ سے سرزد نہیں ہوتا۔۔۔ایسی سزاء کو جھیلنے کا حوصلہ انسان کہاں سے لائے؟”
بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے وہ نیم تاریکی میں کھڑکیوں سے باہر کہیں دیکھنے لگیں۔باہر لان لائٹس کی روشنیاں سوئمنگ پول کی سطح پر چمک رہی تھیں۔
عسریسرا از حسنیٰ حسین
“اتنی سی چوٹ لگنے سے کوئی نہیں مرتا!”
“میں تو۔۔۔مر جاتی ہوں!!!”
وہ ٹھہر گیا۔رک گیا۔ جم گیا۔
جلتی ہوئی لکڑیوں میں ایک اور صفحے کا اضافہ ہوا ۔ساکت پانیوں میں کنکر پھینکا گیا ۔ پتے توڑ کر فضاء میں اچھال دیئے گئے۔۔۔
آن کی آن میں براون ووڈن فلور آئنہ ہوا۔ ایک ہی دراڑ سے جنم لیتیں بےشمار دراڑیں اسے ہزارہا حصوں میں منقسم کر گئیں۔ وہ پنجوں کے بل جھکا تو اسے لگا وہ اب کبھی اٹھ نہیں پائے گا۔۔۔سانس لینا چاہے گا تو اسے سانس نہیں آئے گا۔۔۔
کیا کوئی اتنا بےخبر ہو سکتا ہے جتنا کہ وہ تھا!؟ کوئی اتنا سفاک بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ وہ خود اپنے لیے تھا!؟یہ کیسی بےحسی تھی جو اپنی ذات سے مربوط(جڑی) تھی!؟ یہ کیسی خود غرضی تھی جو اذیت مشروط تھی!؟
وہ سفر طویل دشوار تھا جسے طے کر کے وہ یہاں تک پہنچا تھا۔اس حد تک سنبھلا تھا۔اس حد تک بدل گیا تھا۔یہ اسکا وہم۔۔یہ اسکا خیال تھا۔ہمیشہ کی طرح اس بار بھی وہ اپنے آپ سے بےخبر رہا تھا۔ہمیشہ کی طرح اس بار بھی وہ خود کو۔۔۔سمجھ نہیں سکا تھا۔۔پرکھ نہیں سکا تھا۔۔۔۔
وقت گزر گیا تھا۔۔زندگی بدل گئی تھی۔۔۔۔مگر اس کے اندر کی حکایتیں۔۔۔۔آج بھی اس کے لیے۔۔۔
کچھ مبھم۔۔۔۔۔۔
کچھ ادھوری۔۔۔۔۔
اور بےنام ہی رہی تھیں۔۔۔

3 Comments

Leave a Comment